تقابل – نتائج کا یا دلائل کا؟

نتائج فکر کا تقابل کرنا اور ان کے دلائل کا موازنہ کرنا دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ اول الذکر صرف یہ بتاتا ہے کہ دو چیزیں اپنی ظاہری ہیئت میں کس طرح مختلف ہیں۔ ثانی الذکر یہ بتاتا ہے کہ وہ کیا پراسس ہے جس نے دو چیزوں کہ مختلف کر دیا ہے۔ کسی چیز کے صحیح یا غلط ہونے کا فیصلہ اول الذکر سے نہیں کیا جا سکتا، لیکن ہم کرتے ہیں۔ اس میں اصل میں مانوس فکر کو صحیح فرض کر کے نئے فکر کا ابطال کیا جاتا ہے۔

بنات اور ربائب

قرآن میں بنات کا لفظ سگی بیٹیوں کے لیے آیا ہے اور ربائب کا لفظ سوتیلی بیٹیوں کے لیے۔ 

حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ وَعَمَّاتُكُمْ وَخَالَاتُكُمْ وَبَنَاتُ الْأَخِ وَبَنَاتُ الْأُخْتِ وَأُمَّهَاتُكُمُ اللَّاتِي أَرْضَعْنَكُمْ وَأَخَوَاتُكُم مِّنَ الرَّضَاعَةِ وَأُمَّهَاتُ نِسَائِكُمْ وَرَبَائِبُكُمُ اللَّاتِي فِي حُجُورِكُم مِّن نِّسَائِكُمُ اللَّاتِي دَخَلْتُم بِهِنَّ فَإِن لَّمْ تَكُونُوا دَخَلْتُم بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ وَحَلَائِلُ أَبْنَائِكُمُ الَّذِينَ مِنْ أَصْلَابِكُمْ وَأَن تَجْمَعُوا بَيْنَ الْأُخْتَيْنِ إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ ۗ إِنَّ اللَّـهَ كَانَ غَفُورًا رَّحِيمًا (4:23)

يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُل لِّأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِن جَلَابِيبِهِنَّ ۚ ذَٰلِكَ أَدْنَىٰ أَن يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ ۗ وَكَانَ اللَّـهُ غَفُورًا رَّحِيمًا (33:59)