الله میاں کا گلَّہ

بیٹی آپ گلّہ میں سکے جمع کرتی  ہو. سال بعد اس کو توڑ کر پیسے نکل لیتی ہو. آپ یہ دیکھ کر حیران رہ جاتی ہو کہ اتنے سارے پیسے اکٹھے ہو گئے ہیں! آپ بہت خوش ہوتی ہو اور اس سے اپنے لئے کوئی چیز خریدتی ہو. اگر آپ گلہ میں ایک اور سوراخ کر لو اور ساتھ ساتھ پیسے نکالتی رہو تو سال کہ بعد بھی وہ خالی ہی ہوگا. یا اس میں بہت کم پیسے ہوں گے.

آپ کا ایک گلّہ الله میاں کے پاس بھی ہے. جب آپ کوئی اچھا کام کرتی ہو تو الله میاں اس میں ایک سکہ ڈال دیتے ہیں. جب ہم اس کے پاس جائیں گے تو اس کو توڑ کر سکے نکال لیں گے. جس کے پاس جتنے سکے ہوں گے اگلی دنیا میں وہ اتنا ہی خوش ہوگا. اگر آپ اچھے کام کر کے دنیا میں ہی اس کا سکہ نکال لو تو کیا ہوگا؟ اگلی دنیا میں آپ کے سکہ کم پڑ جائیں گے.

اگر آپ اچھا کام اس لیے کرو کہ لوگ آپ کو اچھا سمجھیں یا آپ کو دنیا میں کوئی فائدہ مل جائے تو اس کا مطلب ہے کہ آپ نے اپنا سکہ یہیں پر نکل لیا.

Alternative way just for the sake of it

If we keep looking at a problem in one way, we may not come up with a solution. However, if we change the way we look at it a solution might click. Mind needs cues. It works on patterns. The new point of view may match an already existing pattern and you can come up with a solution.

Example:

Integer Multiplication: we know how to do it, right? Why not write a recursive algorithm for the same problem? It is not immediately obvious the benefit of this. The time complexity is the same. But the representation of the new algorithm i.e. a recurrence suggests a way you can improve it further, thus Guass’s multiplication formula.