مجبوری کا فائدہ

اگر کوئی کام آپ کے لئے ضروری ہو اور خود سے اسے کرنے کا دل بھی نہ کرتا ہو یا وقت نکلنا مشکل ہو تو اس کو اپنے لئے مجبوری بنا لیں. مثال کے طور پر  کسی موضوع پر لوگوں کے ساتھ بحث شروع کر دیں. اب ان کے دلائل کا جواب دینا آپ کی اخلاقی مجبوری بن جائے گا.فارسی سیکھنی ہے تو یونیورسٹی میں رجسٹر کر لیں.

کونسی کتاب کیسے پڑھی جائے

کتاب معلومات بڑھانےکے لئے بھی پڑھی جا سکتی ہے اور کوئی فن سیکھنے کے لئے بھی. کوئی تفسیر پڑھنا آپ کی معلومات میں اضافہ کرتا ہے کہ فلاں صاحب علم نے آیتوں اور سورتوں کے کیا معانی لیے ہیں. اصول تفسیر ایک فن ہے. اسے سیکھ کر آپ یہ تجزیہ کر سکتے ہیں کہ ان صاحب علم نے کس طرح وہ معانی اخذ کے ہیں. کوشش کریں کہ پہلے فنون سیکھ لیں تاکہ اس کے محل میں اس کو استعمال ہوتا دیکھ سکیں. فنون کی کتب کو خوب سمجھ کر پڑھنا چاہیے چاہے کتنا ہی وقت لگ جائے اور چاہیے کہ کسی ماہراستاد سے پڑھا جائے. زیادہ سے زیادہ وقت ان کو دیں.

“مذہبی داستانیں اور ان کی حقیقت” ایک ایسی کتاب ہے جس سے آپ اصول حدیث کے کچھ اصولوں کا استقرا کر سکتے ہیں یعنی کن کن وجوہات کی بنا پر حدیث کو ضعیف کہا جاتا ہے. اپنی اصل میں یہ آپ کی معلومات میں اضافہ کرتی ہے کہ کیسی کیسی حدیثیں لوگ گھڑتے رہے ہیں. ایسی کتاب کو وقفہ وقفہ سے پڑھا جا سکتا ہے. سرسری کا پڑھ جانا بھی ٹھیک ہے.

کوئی سوال ذہن میں لے کر کتابیں پڑھنا سب سے زیادہ مفید ہے. اگر آپ کسی سوال کا جواب تلاش کرنا چاہتے ہیں یا یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ اس سوال کے لوگوں نے کیا کیا جوابات دیے ہیں تو اس موضوع پر جتنی کتابیں مل سکیں پڑھ ڈالیں. پہلی پر وقت زیادہ لگائیں. باقیوں پر خود بخود کم لگنا چاہیے کیونکہ بہت سی چیزیں مکرر آ رہی ہوں گی. کوشش کریں کہ ان کے درمیان زیادہ وقفہ نہ آئے. اگر دلائل کی سمری ایک جگہ پر اکٹھی لکھ لیں تو بعد میں بہت فائدہ دے گی.

کچھ کتابیں ایسی بھی ہیں جن کو بار بار پڑھنا چاہیے. ایسی کتابیں تزکیری نوعیت کی ہوتی ہے. وہ آپ کو آپ کی زندگی کا مقصد یاد دلاتی ہیں. اس لئے ان کو ایک بار پڑھ کر طاق پر رکھ دینا کافی نہیں.