تہجد، تراویح اور مولانا انور شاہ کاشمیری

قال عامَّة العلماء: إنَّ التراويحَ وصلاةَ اليل نوعانِ مختلفان. والمختارعندي أنهما واحدٌ وإن اختلفت صفتاهما، كعدم المواظبة على التراويح، وأدائها بالجماعة، وأدائها في أول اللَّيل تارةً وإيصالها إلى السَّحَر أُخرى. بخلاف التهجُّد فإنه كان في آخِر الليل ولم تكن فيه الجماعة. وجَعْلُ اختلافِ الصفات دليلا على اختلاف نوعيهما ليس بجيِّدٍ عندي، بل كانت تلك صلاةً واحدةً، إذا تقدَّمت سُمِّيت باسم التراويح، وإذا تأخَّرت سُمِّيت باسم التهجُّد، ولا بِدْعَ في تسميتها باسمين عند تغايُرِ الوَصْفَين، فإنَّه لا حَجْر في التغاير الاسمي إذا اجتمعت عليه الأُمةُ. وإنَّما يثبُتُ تغايُرُ النَّوْعَيْن إذا ثَبَت عن النبيِّ صلى الله عليه وسلّم أنه صلى التهجُّدَ مع إقامَتِهِ بالتراويحِ.

عام علماء نے کہا ہے کہ تراویح اور صلاة الليل (نماز كي) دومختلف قسمیں ہیں. میرے نزدیک صحیح بات یہ ہے کہ یہ دونوں ایک ہی ہیں چاہے ان دونوں کے صفات میں فرق ہو. جیسا کہ تراویح کا ہمیشہ نہ پڑھا جانا، اور اس کو جماعت کے ساتھ ادا کرنا، اور اس کو کبھی رات کے شروع میں ادا کرنا اور کبھی اسے صبح تک لے جانا، تہجد کے برخلاف کہ وہ رات نے آخر میں ہوتی ہے اور اس میں جماعت نہیں ہوتی. اور صفات کے فرق کو قسم کے اختلاف پر دلیل بنانا میرے نزدیک مناسب نہیں ہے. بلکہ یہ ایک ہی نماز ہے. اگر وہ پہلے آ جائے تو اسے تراویح کا نام دیا جاتا ہے اور اگر بعد میں آ جائے تو تہجد کا نام دیا جاتا ہے. اور صفات کا اختلاف ہوتے ہوئے اس کو دو نام دینے میں کوئی بدعت نہیں ہے کیونکہ جب امت نام کے مختلف ہونے پر جمع ہو جائے تو میں کوئی رکاوٹ نہیں رہتی. (نمازوں کی) قسموں كا مختلف ہونا تو صرف تب ثابت ہوگا جب نبی (ص) سے یہ ثابت ہو جائے کہ انہوں نے تراویح کے ساتھ ساتھ تہجد بھی پڑھی ہے.

فيض الباري على صحيح البخاري
باب قِيَامِ النَّبِىِّ – صلى الله عليه وسلم – بِاللَّيْلِ فِى رَمَضَانَ وَغَيْرِهِ