یاجوج ماجوج اور مولانا انور شاہ کاشمیری

أمَّا الكلامُ، في يَأْجُوجَ ومَأْجُوجَ، فاعلم أنهم، من ذُرِّيَّة يافث باتفاق المؤرِّخين. ويُقَال لهم في لسان أروبا: كاك ميكاك، وفي مقدمة ابن خَلْدُون: «غوغ ماغوغ». وللبرطانية إقرارٌ بأنهم من ذُرِّيَّة مَأْجُوجَ، وكذا ألمانيا أيضًا منهم، وأمَّا الروس فهم من ذُرِّيَّةِ يَأْجُوجَ. وليس هؤلاء إلاَّ أقوامًا من الإِنس، والمراد من الخروج: حَمْلَتُهم، وفسادُهم، وذلك كائنٌ لا محالة في زمانه الموعود، وكلُّ شيءٍ عند ربِّك إلى أجلٍ مسمَّى. وليس السدِّ مَنَعَهُمْ عن الفساد، فهم يَخْرُجُون على سائر الناس في وقتٍ، ثم يُهْلَكُونَ بدعاء عيسى عليه السلام. هكذا في «مكاشفات يوحنا» وفيه: أنهم يُهْلَكُونَ بدعاء المسيح عليه الصلاة والسلام عليهم.

جہاں تک یاجوج ماجوج کا مسئلہ ہے تو جان لو کہ وہ مؤرخین کے اتفاق کے مطابق یافث (بن نوح) کی اولاد میں سے ہیں. انہیں اروبا کی زبان میں کاک میکاک کہا جاتا ہے. اور مقدمہ ابن خلدون میں غوغ ماغوغ آیا ہے. اور برطانیہ کے بارے میں یہ اقرار (؟) ہے کہ وہ ماجوج کی اولاد میں سے ہیں. اور اسی طرح جرمنی بھی انہی میں سے ہیں. جہاں تک روس کا تعلق ہے تو وہ یاجوج کی اولاد میں سے ہیں. اور یہ سب انسانوں ہی کی اقوام ہیں. اور ان کے خروج سے مراد ان کا حملہ اور فساد ہے. اور یہ لازمی ہونے والا ہے مسیح موعود کے زمانے میں. اور ہر چیز کا الله کے ہاں ایک وقت مقرر ہے. اور دیوار ان کو فساد سے باز رکھنے والی نہیں ہے تو ایک وقت وہ سب انسانوں پر نکل کھڑے ہوں گے. پھر وہ عیسیٰ علیہ السلام کی دعا سے ہلاک کر دیے جائیں گے. مکاشفات یوحنا میں اسی طرح آیا ہے اور اس میں لکھا ہے کہ: وہ عیسیٰ علیہ السلام کی بددعا سے ہلاک کر دیے جائیں گے.

باب قصة ياجوج و ماجوج
فيض الباري على صحيح البخاري