علم فلکیات اور رؤیت ہلال

وَقَدْ اُخْتُلِفَ فِي مَعْنَى قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: “فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدُرُوا لَهُ” فَقَالَ قَائِلُونَ: أَرَادَ بِهِ اعْتِبَارَ مَنَازِلِ الْقَمَرِ، فَإِنْ كَانَ فِي مَوْضِعِ الْقَمَرِ، لَوْ لَمْ يَحُلْ دُونَهُ سَحَابٌ وَقَتَرَةٌ وَرُئِيَ، يُحْكَمُ لَهُ بِحُكْمِ الرُّؤْيَةِ فِي الصَّوْمِ وَالْإِفْطَارِ، وَإِنْ كَانَ عَلَى غَيْرِ ذَلِكَ لَمْ يُحْكَمْ لَهُ بِحُكْمِ الرُّؤْيَةِ. وَقَالَ آخَرُونَ: فَعُدُّوا شَعْبَانَ ثَلَاثِينَ يَوْمًا أَمَّا التَّأْوِيلُ الْأَوَّلُ فَسَاقِطُ الِاعْتِبَارِ لَا مَحَالَةَ لِإِيجَابِهِ الرُّجُوعَ إلَى قَوْلِ الْمُنَجِّمِينَ وَمَنْ تَعَاطَى مَعْرِفَةَ مَنَازِلِ الْقَمَرِ وَمَوَاضِعِهِ، وَهُوَ خِلَافُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {يَسْأَلونَكَ عَنِ الْأَهِلَّةِ قُلْ هِيَ مَوَاقِيتُ لِلنَّاسِ} فَعَلَّقَ الْحُكْمَ فِيهِ بِرُؤْيَةِ الْأَهِلَّةِ، وَلَمَّا كَانَتْ هَذِهِ عِبَادَةً تَلْزَمُ الْكَافَّةَ لَمْ يَجُزْ أَنْ يَكُونَ الْحُكْمُ فِيهِ مُتَعَلِّقًا بِمَا لَا يَعْرِفُهُ إلَّا خَوَاصُّ مِنْ النَّاسِ مِمَّنْ عَسَى لَا يُسْكَنُ إلَى قَوْلِهِمْ.

نبی (ص) کے قول {اور اگر چاند تم پر ڈھانپ دیا جائے تو اس کا اندازہ کرو} کے معنی میں اختلاف کیا گیا ہے. کچھ لوگوں نے کہا ہے: اس سے حضور (ص)  کی مراد چاند کی منازل کا اعتبار کرنا ہے. اگر وہ (اندازہ) چاند کی جگہ میں ہو – اس طرح کہ وہ دیکھ لیا جاتا اگر بادل یا غباراس کے آگے نہ ہوتے – تو اس پر دیکھے جانے کا حکم لگایا جائے گا. اور اگر اس کے علاوہ ہو تو اس پر دیکھے جانے کا حکم نہیں لگے گا. اور دوسروں نے کہا ہے: شعبان کے تیس دن پورے کرو. جہاں تک پہلی تاویل کا تعلق ہے تو وہ قابل اعتبار نہیں ہے. اس کے اثبات کے لئے منجموں اور ان لوگوں کے قول  کی طرف رجوع کرنے کے علاوہ چارہ نہیں جو چاند کی منازل اور جگہوں کا علم حاصل کرتے ہیں. اور یہ الله تعالی کی بات کے خلاف ہے. اس نے حکم کو چاند کے دیکھنے سے متعلق کر دیا ہے. اور جب یہ عبادت بن گئی تو اس نے لوگوں پرلازم کر دیا کہ حکم کا ایسی چیز سے متعلق ہونا جائز نہ ہو جس کو خواص کے علاوہ کوئی نہیں جانتا اور جن کے بارے میں امید ہے کہ وہ اپنے قول پر نہیں ٹھہریں گے.

اگر یہ ترجمہ صحیح ہے تو جس دلیل کی بنیاد پر پہلی تاویل کو رد کیا گیا ہے اس کا اب کے حالات پر اطلاق نہیں کیا جا سکتا.

سورة البقرة 189
أحكام القرآن للجصاص

سورة التوبة کی آیت 28 میں المشرکون

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ فَلَا يَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هَـٰذَا ۚ وَإِنْ خِفْتُمْ عَيْلَةً فَسَوْفَ يُغْنِيكُمُ اللَّـهُ مِن فَضْلِهِ إِن شَاءَ ۚ إِنَّ اللَّـهَ عَلِيمٌ حَكِيمٌ (9:28)

اس آیت میں الْمُشْرِكُونَ سے مراد مشرکین عرب ہیں. اس کا سب سے بڑا قرینہ بَعْدَ عَامِهِمْ هَـٰذَا ہے. وہ کون سے مشرکین ہیں جو “اس سال” اور اس سے پہلے مسجد حرام آتے جاتے تھے اور “اس سال” کے بعد ان پر پابندی لگ جانی تھی؟ ظاہر ہے کہ یہ مشرکین عرب ہی تھے. ہندوستان کے مشرکین وغیرہ یہاں مراد نہیں ہیں.