پرانے علماء اور نئے علماء

ہم یہ کیوں سمجھتے ہیں کہ گزرے ہوئے دینی علماء عبقری تھے اور اب صرف چھوٹے قد کے لوگ رہ گئے ہے. عام طور پر تو ایسا نہیں ہوتا. یہاں تو یہ ہوتا ہے کہ ایک شخص آتا ہے جو پچھلے کے کام پر اپنی بنیاد رکھتا ہے، اس کو بہتر کرتا ہے یا اس سے بہتر رستہ سجھاتا ہے. سقراط کے بعد افلاطون آتا ہے اور پھر ارسطو. نیوٹن کے بعد آئن سٹائن آتا ہے اور اب نجانے کون آئے.

اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ دین کا آغاز perfection سے ہوتا ہے. اس سے اوپر تو جایا نہیں سکتا تو لوگ نیچے کی طرف سفر کو ہی فطری سمجھ لیتے ہیں. جبکہ انسانی کاوشوں کا آغاز ہی imperfection سے ہوتا ہے. مختلف لوگوں کی محنت کے نتیجہ میں imperfection کی مقدار کم ہوتی جاتی ہے.

اگر ایسا ہے تو اس میں ایک مغالطہ ہے. وہ یہ کہ دین کا آغاز perfection سے ہوتا ہے نہ کہ کسی عالم کے دینی فہم کا. کوئی بھی عالم چاہے وہ کسی بھی زمانے کا ہو، اس کے بارے میں perfection کا دعوی نہیں کیا جا سکتا.