تحقیق ، اسلام اور مسلمان

میرے ایک دوست ہیں. کمپیوٹر سائنس میں  دو ماسٹرز کر چکے ہیں. ایک پاکستان سے اور ایک امریکا کی کسی یونیورسٹی سے. میں جس یونیورسٹی میں کام کرتا تھا وہاں کے سب سے فعال محقق سمجھے جاتے ہیں. ان کی کوشش ہوتی ہے کہ ہر سمسٹر میں ان کا کورس آفر ہو جس میں وہ ریسرچ پراجیکٹ کروائیں اور پھر کسی کانفرنس میں مقالہ شائع کروا سکیں.

کسی بھی مقالہ میں لٹریچر ریویو کا ایک حصہ ہوتا ہے جس میں زیر بحث مسئلہ سے متعلقہ کام اگر کوئی اور کر چکا ہو تو اس کا ذکر کیا جاتا ہے. یہ ایک محنت طلب کام ہے. کام کا ذکر صحیح ریفرنس کے ساتھ کرنا ضروری ہے ورنہ مقالہ کے معیار کو زک پہنچتی ہے.

ایک ایسا شخص جو تحقیق کرنے اور مقالے لکھنے میں ماہر ہو اس کے بارے میں یہی حسن ظن رکھا جائے گا کہ وہ باقی زندگی اور خاص کر دین کے معاملے میں بھی اسی طرح محتاط ہوگا جس طرح وہ مقالہ میں ریفرنس لکھتے ہوئے ہوتا ہے لیکن افسوس کہ ایسا نہیں ہے!

فیس بک پر ایک ہندو خاتون کے بارے میں ایک تصویر گردش کر رہی ہے کہ انہوں نے چاند کے سفر سے واپسی پر اسلام قبول کر کیا. اسلام کی حقانیت ان پر ان طرح کھلی کہ ان کو چاند سے صرف مکہ اور مدینہ چمکتے ہوئے نظر آئے اور انہوں نے چاند پر اذان کی آواز سنی. یہ پوسٹ میرے اس دوست نے بھی شیئر کی. ذرا تحقیق کی ضرورت نہیں سمجھی. حالانکہ ذرا سی گوگل سرچ یہ بتا دیتی ہے کہ سنیتا ١٩٦٥ میں پیدا ہوئیں اور چاند پر کوئی انسان آخری بار ١٩٧٢ میں اترا جب سنیتا ٧ یا ٨ برس کی تھیں. صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ خبر سر تا سر جھوٹ ہے.

دین کے بارے میں اس طرح کے پڑھے لکھے لوگوں کا یہ حال ہے تو عامی کا تو خدا ہی حافظ ہے! اس کی کیا وجہ ہے؟ آپ بھی سوچئے اور میں بھی سوچتا ہوں.